ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لڑکوں کے خلاف جنسی جرائم معاملے مکمل طور سامنے نہیں آتے، بیداری بڑھانے کی ضرورت ہے: کے ایس سی ایف 

لڑکوں کے خلاف جنسی جرائم معاملے مکمل طور سامنے نہیں آتے، بیداری بڑھانے کی ضرورت ہے: کے ایس سی ایف 

Wed, 23 Oct 2019 23:14:04    S.O. News Service

نئی دہلی،23/اکتوبر(ایس اونیوز/ آئی این ایس انڈیا) قومی جرائم ریکارڈ بیورو (این سی آربی) کی طرف سے بچوں کے خلاف جرائم سے متعلق 2017 کے اعداد و شمار جاری کئے جانے کے پس منظر میں نوبل فاتح کیلاش ستیارتھی کے ادارے نے بدھ کو کہا کہ ملک میں اب بھی لڑکوں کے خلاف ہونے والے جنسی تشدد کے معاملے مکمل طور سامنے نہیں آ پاتے ہیں اور اس بارے میں بیداری بڑھائے جانے کی ضرورت ہے۔کیلاش ستیارتھی چلڈ رنس فاؤنڈیشن '(کے ایس سی ایف) نے یہ بھی کہا کہ جب تک لڑکوں کے خلاف ہونے والے جنسی جرائم کی رپورٹنگ اور شکایت درج نہیں ہوگی تب تک ایسے جرائم پر مؤثر طریقے سے روک نہیں لگایا جا سکتا۔تنظیم نے ایک بیان میں کہاکہ این سی آربی کے مطابق، سال 2017 میں پورے ہندوستان میں بچوں کے خلاف کل 129032 جرائم ہوئے۔وہیں، 2016 میں بچوں کے خلاف 106958 جرائم درج کئے گئے۔سال 2017 کے دوران بچوں کے ساتھ واقع ہو جنسی تشدد کے کل 17557 معاملے درج کئے گئے،تاہم بچوں کے ساتھ واقع ہو جنسی تشدد کے 10059 معاملات کو پاکسو ایکٹ سے نہیں شامل کر دیا گیا۔ کے ایس سی ایف نے کہاکہ یہ حقیقت اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یا تو پولیس افسران میں پاکسو ایکٹ کو لے کر کسی طرح کی معلومات کا فقدان ہے، یا پھر وہ اس ایکٹ کو جاننے کے خواہش مند نہیں ہیں۔ اس نے کہا کہ ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ لڑکوں کے ظلم و ستم کے معاملے میں سال 2017 کے دوران پاکسو ایکٹ کے تحت صرف 940 کیس درج کئے گئے۔اس ادارے نے کہاکہ سال 2007 میں بہبودبرائے خواتین واطفال کی وزارت نے بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات کا اندازہ لگانے کے لئے ایک قومی مطالعہ کیا تھا۔اس مطالعہ میں پایا گیا کہ 48 فیصد لڑکوں نے کسی نہ کسی سطح پر جنسی استحصال کا سامنا کیا تھا۔سال 2017 کے ہمارے ایک مطالعہ سے یہ بات نکل کر سامنے آئی کہ 25 فیصد لڑکوں نے جنسی استحصال کا سامنا کیا ہے۔


Share: